منتشر خیالاتِ اقبال | Muntashir Khayalat-e-Iqbal | Stray Reflections
منتشر خیالاتِ اقبال | Muntashir Khayalat-e-Iqbal | Stray Reflections
Couldn't load pickup availability
منتشر خیالاتِ اقبال علامہ اقبال کی ذاتی ڈائری (Stray Reflections) کا اُردو ترجمہ ہے جس کے مترجم میاں ساجد علی ہیں۔ آپ پیش لفظ میں لِکھتے ہیں: میرے لیے اِن ”منتشر خیالات“ کا ترجمہ کرنا ایک مِلّٗی فریضہ کی طرح ہے۔ الفاظ کے چُناؤ اور جملوں کی ساخت میں حتی الامکان کوشش کی ہے کہ یہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار کی صحیح ترجمانی کریں اور اُن کی فکر کے عکاس ہوں۔
تعارفی نوٹ
ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ اُنہیں یہ بیاض (ڈائری) علامہ اقبال کے کاغذات میں پڑی ہوئی مِلی۔ بیاض پر لکھی گئی تاریخ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ علامہ نے 27 اپریل 1920ء کو اس میں لکھنا شروع کیا، یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلا اور پھر نہ جانے کیوں ختم کر دیا۔ اقبال نے اِس بیاض کے سرورق پر (Stray Reflections) کا عنوان درج کیا تھا۔ یہ اُن متفرق تحریروں پر مشتمل ہے جو اُس زمانے میں زیرِ مطالعہ کتب کے تاثرات‘ یا اپنے ماحول کے بارے میں اقبالؔ کے خیالات و احساسات اور ایامِ طالبِ علمی کی یادوں پر مبنی ہیں۔ اگرچہ ہمیں اُن کے بعض خیالات سے اِختلاف ہو‘ تاہم بیاض میں اقبال کے ذہن کی توانائی‘ ہمہ گیری اور اخلاقی جھلک نظر آئے گی۔ یہ بیاض علامہ اقبال کی دِلچسپیوں کا ایک رنگارنگ مشاہدہ پیش کرتی ہے اور متنوع موضوعات مثلاً آرٹ‘ فلسفہ‘ ادب‘ سائنس‘ سیاست ار مذہب کے بارے میں علامہ کے خیالات سے ہمیں آشنا کرتی ہے۔
Book | Muntashir Khayalat-e-Iqbal | Stray Reflections |
کتاب | منتشر خیالاتِ اقبال |
Author | Allama Iqbal |
مصنف | علامہ اقبال |
Translated by | Mian Sajid Ali |
مترجم | میاں ساجد علی |
Pages | 192 |
صفحات | 192 |
Main Language | Urdu |
زبان | اردو |
Book Format | Hardcover |
Share







